منشیات کے مقدمات پاکستان کی عدالتوں میں سب سے زیادہ تعداد میں آنے والے کیسز میں شامل ہیں، مگر ان پر مکمل ٹرائل شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔ ضمانت ملتے ہی مدعی اور پولیس دونوں کی دلچسپی ختم ہو جاتی ہے اور فائل الماری میں بند ہو جاتی ہے۔
کنٹرول آف نارکوٹک سبسٹینسز ایکٹ 1997 کیا کہتا ہے؟
سی این ایس اے 1997 پاکستان میں منشیات کے مقدمات کا بنیادی قانون ہے، جس کے تحت خصوصی عدالتیں بھی قائم ہیں۔ یہ قانون:
- کنٹرولڈ منشیات کی واضح تعریف دیتا ہے
- سیکشن 9 کے تحت مقدار کے حساب سے تین درجوں میں سزا مقرر کرتا ہے
- اثاثوں کو منجمد کرنے اور بین الاقوامی تعاون کی اجازت دیتا ہے
- تلاشی اور ضبطی کے اصول طے کرتا ہے
- بلا جواز چھاپوں پر سزا کا تعین کرتا ہے
سیکشن 9 کے تحت سزا:
- 100 گرام سے کم — 2 سال تک (9A)
- 100 گرام سے 1 کلو — 7 سال تک (9B)
- 1 کلو سے زائد — عمر قید یا سزائے موت (9C)
ایک معروف اسمگلنگ کیس کے بعد سے عدالتیں، خاص طور پر ہیروئن کے مقدمات میں، سزائے موت دینے سے گریز کرنے لگی ہیں، اور اب یہی احتیاط چرس کے مقدمات میں بھی نظر آتی ہے۔
ضمانت کا فیصلہ: صرف وزن پر انحصار
لاہور سمیت پاکستان بھر کی عدالتیں اکثر ضمانت کا فیصلہ صرف برآمد شدہ منشیات کے وزن کی بنیاد پر کرتی ہیں۔ 1200 گرام سے زائد ہونے پر ضمانت مشکل، اور اس سے کم پر آسانی سے مل جاتی ہے۔
یہ طریقہ ناقص ہے۔ وزن ایک عنصر ہو سکتا ہے، مگر واحد عنصر نہیں ہونا چاہیے۔ عدالتوں کو یہ بھی دیکھنا چاہیے:
- کیا کیس جھوٹے پھنسانے کی نشاندہی کرتا ہے
- مزید تفتیش کی گنجائش موجود ہے یا نہیں
- استغاثہ کا مجموعی بیانیہ کتنا قابلِ اعتبار ہے
جھوٹے مقدمات ایک حقیقی مسئلہ ہیں۔ سیاسی مخالفتوں میں اے این ایف کے فورم کا ذاتی رنجشوں کے لیے استعمال ہونا بھی دیکھا گیا ہے، اور جب کیس ضمانت کے مرحلے پر ہی ٹوٹ جائے تو تفتیش کی خامیاں واضح ہو جاتی ہیں۔
سکولوں اور کالجوں میں منشیات: ایک نظرانداز مسئلہ
انسدادِ منشیات کے ادارے زیادہ تر اسمگلنگ پر توجہ دیتے ہیں، جبکہ طلبہ میں منشیات کا استعمال نظرانداز ہو رہا ہے۔ آئس، ایکسٹسی اور کوکین جیسی نئی اور زیادہ خطرناک اشیاء اب بڑے شہروں کی جامعات اور کالجوں میں عام ہو چکی ہیں۔
بعض علاقوں میں سکول بیگز کی اچانک تلاشی معمول بن چکی ہے، جو مسئلے کی سنگینی ظاہر کرتی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کو دی جانے والی زائد جیب خرچی اور غیرنگرانی موبائل فون کے استعمال پر نظر رکھیں۔
منشیات کے مقدمات کیوں ناکام ہوتے ہیں؟
لاہور سمیت پاکستان بھر کی عدالتوں میں منشیات کے مقدمات میں بریت کی شرح بہت زیادہ ہے۔ چند بڑی وجوہات یہ ہیں:
1. ہر ایف آئی آر ایک جیسی ہوتی ہے۔ ایک ایف آئی آر پڑھ لیں تو گویا سب پڑھ لیں۔ مخبری، چھاپہ، روکنا، اور بیگ یا گاڑی سے برآمدگی — یہی کہانی بار بار دہرائی جاتی ہے۔ گرفتاری سے پہلے مخبری ملنا صرف منشیات کے مقدمات میں ہی نظر آتا ہے، جو جعلسازی کی گنجائش پیدا کرتا ہے۔
2. جدید ٹیکنالوجی کا فقدان۔ دنیا بھر کے ایئرپورٹس گرفتاری اور برآمدگی کی ویڈیو ریکارڈنگ کرتے ہیں تاکہ عدالت میں شک کی گنجائش نہ رہے۔ پاکستان میں یہ عمل مستقل بنیادوں پر نہیں ہوتا۔
3. تمام اختیار ایک ہی شخص کے ہاتھ میں۔ اکثر ایک ہی افسر مخبر، برآمدگی کا گواہ، اور تفتیشی افسر تینوں ہوتا ہے۔ اتنا اختیار ایک شخص میں ہونا خطرناک ہے اور دفاع کے لیے تعصب کا الزام لگانا آسان بنا دیتا ہے۔
4. لیبارٹری ٹیسٹنگ کے معیارات کمزور۔ سپریم کورٹ کا ایک بڑا بینچ پہلے ہی نشاندہی کر چکا ہے کہ منشیات کی جانچ کے طریقہ کار بین الاقوامی معیار پر پورا نہیں اترتے۔
5. اصل ملزمان تک رسائی نہیں۔ زیادہ تر مقدمات ڈرائیوروں اور چھوٹے کارندوں کے خلاف ہوتے ہیں، جبکہ اس کاروبار کے مالی سرپرست شاذ و نادر ہی عدالت میں آتے ہیں۔ ایک کارندہ پکڑا جائے تو فوراً دوسرا اس کی جگہ لے لیتا ہے۔
کیا تبدیلی درکار ہے؟
- گرفتاری اور برآمدگی کی مکمل ویڈیو و آڈیو ریکارڈنگ لازمی قرار دی جائے
- آزاد اور بین الاقوامی معیار کی لیبارٹری ٹیسٹنگ
- شواہد کی حفاظت (chain of custody) کو مضبوط بنایا جائے
- توجہ کارندوں سے ہٹا کر مینوفیکچررز اور مالی سرپرستوں پر مرکوز کی جائے
- ایئرپورٹس اور بین الاقوامی راستوں پر سکریننگ کو مؤثر بنایا جائے
آخری بات
سی این ایس اے 1997 کاغذ پر ایک مضبوط قانون ہے۔ اصل مسئلہ عملدرآمد میں ہے — ایک جیسی تفتیش، ناقص شواہد، اور ہمیشہ کمزور طبقے کو نشانہ بنانا۔ جب تک توجہ کاروبار کے اصل ذمہ داروں کی طرف نہیں جاتی، صورتحال میں بہتری مشکل ہے۔
مصنف کے بارے میں
یہ مضمون بیرسٹر مزمل قیصرانی کی معلومات پر مبنی ہے، جو لنکنز اِن، لندن سے بیرسٹر ایٹ لا اور پنجاب بار کونسل کے رجسٹرڈ ایڈووکیٹ ہیں۔ انہوں نے یونیورسٹی آف ویسٹ آف انگلینڈ، برسٹل سے کریمنل اینڈ فیملی لاء میں ایل ایل ایم اور یونیورسٹی آف لندن سے ایل ایل بی کیا ہے۔
وہ قیصرانی لاء ایسوسی ایٹس، بحریہ ٹاؤن لاہور کے سربراہ ہیں، جو سول، کریمنل، کارپوریٹ اور فیملی لاء کی خدمات فراہم کرتی ہے۔ وہ قانون کے استاد بھی رہ چکے ہیں اور انٹرنیشنل کمرشل آربیٹریشن میں پیشہ ورانہ قابلیت رکھتے ہیں۔
انگریزی، اردو، پنجابی اور سرائیکی میں روانی رکھنے والے بیرسٹر قیصرانی پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے مؤکلین کو قانونی مشورہ دے چکے ہیں۔
رابطہ: muzamilkaisrani@gmail.com | +92 333 4616407 ویب سائٹ: www.kaisrani.pk
